موضوع رئيسي 2019/09/04

صوبہ پنجاب میں شعبہ زراعت و خوراک کے بہترنتائج کی تلاش و جستجو

Image

اہم خصوصیات

  • پاکستان میں صوبہ پنجاب میں چھوٹے پیمانے کے کسانوں کو بااختیار بنانے اور مارکیٹوں کو مستحکم بنانے کی تلاش و جستجو کاپانچ سالہ پروگرام کی ضرورت ہے ۔
  • صوبے میں جہاں 40 فیصد آبادی شعبہ زراعت میں ملازمت کرتی ہے اور 5 سال سے کم عمر کے تقریباً40فیصد بچوں میں نشوونما کی کمی ہے وہاں پائیداد ترقی بڑھانے اور ناقص غذائیت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تبدیلی کا عمل انتہائی ضروری ہے ۔
  • پنجاب کا حالیہ دورہ مواقعوںاورمسائل کی تصور پیش کرتا ہے ۔

پاکستان میں صوبہ پنجاب میں شعبہ زراعت اورخوراک میں زیادہ بہتر فی روپیہ  نتائج حاصل کرنے  کے لیے سرکاری اخراجات اور قوانین وضع کرنے سے کیا ہوسکتاہے ؟ کیا سرکاری اخراجات کے نیتجے میں غربت میں اورزیادہ کمی ، اعلیٰ صلاحیت واستعدار، زیادہ کاروباری  مواقعوں اور بہتر غذائیت کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں ؟ خوراک کی بہتر معیشت کیسی دکھائی دے گی ؟ کسے فائد ہ ہوگا اور کسے نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

پنجاب کے زراعت اور دیہی تبدیلی کے پانچ سالہ پروگرام کے آغاز کے ڈیڑھ سال بعد ان سوالات کے جوابات  ابھی وضع کیے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے   پنجاب کے شعبوں ،مارکیٹوں اور دفاتر میں اصلاحات اور ترقی کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ایک چیز واضح ہے کہ یہاں تبدیلی کی خواہش موجود ہے ۔

اگرچہ زراعت کے لیے 2017 میں سرکاری امداد مجموعی طور پر 1.3 بلین امریکی ڈالر رہی ہےلیکن گذشتہ چند سالوں میں ترقی کی کم  شرح اور غیر یقینی صورت حال نے اس شعبے کو پسماندہ بنادیا جو ملازمت کا 40فیصد فراہم کرتا ہے اور صوبائی GDP میں اس کا حصہ 20فیصد سے زیادہ ہے ۔ یہ شعبہ مناسب غذائیت بھی فراہم نہیں  کررہا ہے ۔ایک سروے سے معلوم  ہوتا ہے کہ پنجاب میں 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی نشوونما میں کمی پائی جاتی ہے ؟

یہ پروگرام اپنے  نام کے مخفSMART کے نام سے مشہور ہے جسے کارکردگی کی بنیاد پر عالمی  بینک کے پروگرام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے ۔یہ پالیسی اور انتظامی تکنیکی جدتوں کومتعارف کرا کر ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرتا ہے ۔

جولائی 2019ء میں صوبے کے دورے نے تبدیلی کے عمل سے منسلک مواقعوں اور مسائل کی کئی تصاویر پیش کیں۔

 

زرعی انشورنس کے باعث کسانوں کی صلاحیت اور خوراک کے تحفظ میں اضافے سے کیافائدہہوتاہے ؟

Image
پروین اختر (بائیں) اور اس کی دو بہنوں نے نئی انشورنس اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔تصویر: Flore de Preneuf/عالمی بینک

پروین اختر اور اس کی دوبہنوںمختاراں بی بی اور گلزارہ بی بی سے ملیں ۔ وہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے جنوب سے تین گھنٹے کی مسافت پر ضلع ساہیوال کی تحصیل (ذیلی ضلع) چیچہ وطنی میں واقع 1.75 ایکٹر خاندانی زمین پر گندم اور کپاس کاشت کرتی ہیں۔ جب فصلوں کی تباہی اور خشک سالی کے باعث ان کی پیداوار کم ہوئی تو انہیں مجبوراً  اپنی گائیں بھینس فروخت کرنا پڑیں اور ان کے بچوں کے لیے غذائیت کا ایک بیش قیمت ذریعہ بھی ختم ہوگیا۔ غذائیت مٹی سے حاصل ہوتی ہے جب صحت مند فصلیں نہیں ہوں گی تو ہمیں کم خوراک ملے گی ۔ پروین نے کہا ۔ہمارے پاس کاشتکاری کے علاوہ آمدن کاکوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ ہم عام طور پر آٹے کی روٹی ،سبزیاں اور دالیں کھاتے ہیں ۔ گوشت ایک آسائشی چیز ہے جس سے ہم صرف مذہبی تہواروں جیسے عید کے موقع پر لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

گذشتہ سال جب گلابی سنڈی نے کپاس کی فصل پر حملہ کیا اور گندم کو  بھی نقصان ہوا تو خاندان کو 80000  پاکستانی روپے (تقریباً600 امریکی ڈالر ) کانقصان برداشت کرنا پڑا۔ 2018 میں متعارف کروائی گئی نئے علاقے کی  پیداوار کے انڈکس  پر مبنی فصل کی انشورنس کی سیکم 300000 کسانوں کااحاطہ کرتی ہے  جس کے تحت ان نے بہنوں کو 20000 روپے فراہم کیے جو ان کے نقصان کی کل رقم سے کم ہے لیکن یہ رقم اپنے تمام جانور فروخت کرنے سے بچنے کے لیے کافی تھی ۔

"ہماری خواہش تھی کہ رقم زیادہ ہوتی لیکن ہم  پھر بھی شگرگزارہیں۔پروین نے کہا۔ فصل کی انشورنس کے علاوہ ہر خاندان کو بہت کچھ خود بھی کرنا پڑتا ہے ۔ معاون ایجنٹس کے دورے کبھی کبھار ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پیداوار کم ہے اورکھادیں زیادہ مہنگی ہیں۔ بہنوں  کی حکمت عملی اپنے لیے زیادہ گندم کاشت  کرنا ہے جو  روٹی کا اہم جزو ہے تاکہ خود کوآٹے کی بڑھتی قیمت سے محفوظ رکھا جائے ۔


کیا ای۔وؤچرز سے زیادہ اہمیت کی حامل زراعت کو فروغ دینے اور غربت کم کرنے میں فائدہ ہوگا؟

پروین کے دیہات سے نصف گھنٹے کی مسافت پر کسانوں کی ایسی فصل کاشت کرنے پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو زیادہ منافع بخش ، زیادہ پیداوار کی حامل ہے اور جس کے لیے گندم کی نسبت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تیل کے بیج  کی کاشت ہے ۔ پاکستان اپنا زیادہ تر کھانے کا تیل درآمد کرتاہےحالانکہ ملک کے اندر اسے کاشت کرنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔

Image
ای وؤچر پروگرام نے خلیل احمد ساجد (بائیں) کی اس کے کاشتکاری کے طریقوں میں تبدیلی لانے اور آمدن کو فیصد تک بڑھانے میں مدد دی ہے۔ تصویر: Flore de Preneuf/عالمی بینک

نئی ای ۔وؤچر پر مبنی ان پٹ پر رعائت کی سیکم جس میں ان پٹ کے بیگوں  پر بارکوڈزہوتے ہیں اور سیل فون پر مبنی آسان ترسیل زر شامل ہے ، اس کا مقصد کھادوں اوربیجوں کی قیمت کم کرکےموجودہ صورت حال تبدیل کرنا ہے۔

اس کا مقصد کسانوں کو درست کھاد استعمال کرنے کی ترغیب دینا اور ان کی کاشت کاری کے طریقہ کار کو زیادہ قدروقیمت اور زیادہ پیداوارکی حامل فصلوں کی جانب تبدیل کرنا ہے ۔اپنے دوسرے سال میں ای ۔وؤچر پروگرام 350,000ایکٹر کے کم رقبے سے تیل کے بیج (تلی کا بیج اور سورج مکھی) کے لیے مختص کردہ کاشت کے رقبے میں 33 فیصد اضافہ کر چکا ہے ۔

زمینداروں اور مزارعوں کے ڈیجیٹلڈیٹا بیس پر انحصار کرتے ہوئے حکومت پنجاب اس وقت 91 فیصد کسانوں پر کام کررہی ہے جن کے پاس 12.5 ایکٹر (5 ہیکٹر) سے کم زمین ہے ۔اس طرح ماضی کے مقابلے میں حکومتی اخراجات کازیادہ بہتر اورموثر استعمال ممکن ہواہے ۔

مثلاً اعلیٰ معیار کے تلی کے بیج پر چھوٹ دے کر ای ۔وؤچر پروگرام نے کاشت کاری کا طریقہ کار تبدیل کرنے اور اپنی آمدنی میں 70فیصد اضافہ کرنے میں خلیل احمد ساجد کی مدد کی۔ خلیل چکنائی کے اس نئے ذریعے سے صحت کے فوائد پربحث کرتی ہے ۔"میں معاون کارکنوں کی تربیت کے باعث بذات خود تیل بنانے کے قابل ہوگئیہو۔" یہ بہتر معیارکا تیل ہے اور اب مجھے گھی پر رقم صرف نہیں کرنی پڑتی ہے  حالانکہ تلی کا بیج کافی منافع بخش ہے ۔خلیل نے 2017 میں اپنے 12.5ایکٹر کے پلاٹ کا صرف نصف حصہ تلی کے بیج کے لیے مختص کیا جبکہ نصف حصہ گھر یلو استعمال اور فروخت کے لیے گندم کی کاشت کے لیےرکھا۔

اس کا ہمسایہ  خالد عرفان کو10ایکٹر پر سورج مکھی کاشت کرکے مزید تبدیلی ملی کیونکہ ایک سکول کی استاد کی حیثیت سے ان کی بیوی کی آمدنی مناسب ہے ۔ وہ دیگر کسانوں کی نسبت زیادہ خطرات کا سامنا کرنے کے لیے  تیار تھا لیکن اس نے بھی گندم کے لیے کچھ زمین (2.5ایکٹر) رکھی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ذہنی سکون کاباعث ہے کیونکہ آپ اسے ہمیشہ فروخت کر سکتے ہیں۔

کیا گندم کے شعبے  کو کسانوں کے بہتر معاوضے اور صوبے پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے  جدید بنایا جاسکتاہے؟

Image
پاکستانی کھانوں میں چاول کی نسبت روٹی کو بنیادی خوراک کی حیثیت حاصل ہے۔ تصویر: Flore de Preneuf/عالمی بینک

گندم پنجاب کی زراعت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے لیے تقریباً 16 ملین ایکٹر زمین کا رقبہ مختص کیاگیاہے ۔

 جو پنجاب کی مزروعہ زمین کا 52 فیصد ہے ۔ روٹی پاکستانی خوراک (چاول سے زیادہ) کا بنیاد ی جزو ہے اور اسے مارکیٹ کی قوتوں پر چھوڑنا سیاسی طور پر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے ۔

نتیجتاًگندم کی حکومتی خریداری اورمارکیٹنگ نااہلیت کا سبب بن سکتی ہے ۔

تقریباً ہر سال 20ملین ٹن گندم پیدا کی جاتی ہے ،کسان نصف پیداوار ذاتی استعمال اور جانوروں کی خوراک کے لیے رکھتے ہیں جبکہ حکومت پنجاب مقررہ قیمت (1300روپے کی 40کلوگندم) پرباقی گندم کا 40فیصد خریدتی ہے تاکہ اس کا ذخیرہ رکھا جائے اور مارکیٹ میں گندم بھیج کر گندم کی قیمت کم کی جائے۔

یہ نظام جو کبھی خوراک کی سیکورٹی کو یقینی بناتا تھا ،اب اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔ یہ منافع بخش، مختلف اور غذائیت سے بھرپور فصلوں کی قیمت پر گندم کی اضافی  پیداوار کی حوصلہ افزائی کرتاہے، حکومت پنجاب گندم کا ذخیرہ بند گوداموں کی بجائے تھیلوں میں رکھتی ہے جس سے یہ اکثر خراب ہوجاتی ہے ۔ کسان برآمد کے مواقعوں سے بڑی حد تک زیادہ قیمت منافع پر گندم فروخت نہیں کر پاتےاورحکومت ہر سال گندم خریدنے کے لیے بھاری رقوم کاقرض  لینے پر مجبور ہوتی ہے ۔ یہ ہر سال 35بلین روپے(218 ملین امریکی ڈالر )کے حساب سے ،گندم پر رعایتکی رقم زراعت میں دیگر تمام سرکاری اخراجات بشمول تحقیق وترقی کی نسبت تین گنا سے زیادہ ہیں۔ اور یہ سابقہ قرض  جو 600 بلین روپے (یا 4بلین ڈالر ) ہے پر سود کی ادائیگی پر صرف ہوتی ہے ۔

اس حوالے سے حکومتی قوانین کا کردار بہت اہم ہے ۔ کئی اسٹیکہولڈز خریداری کے حالیہ ماڈل میں کچھ نقائص کی نشاندہی کرتے ہیں۔پاکستان زرعی اتحاد جو ایک غیر تجارتی ادارہ ہے ،کے سربراہ عارف ندیم کہتے ہیں کہ حکومتی سرمایہ کاری کو زیادہ جدید طریقے سے ہدف  بنایا جاسکتاہے ۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر گندم کی قیمت میں اضافہ ہوجائے تو لوگ حکومت سے مایوس ہوسکتے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامر س اور انڈسٹری کے صدر الماس حیدر نے اس کی وضاحت کی ۔ یہ درست ہے کہ مارکیٹ کو کام کرنے دینا چاہیے ۔ غریب صارفین کے لیے گندم پربراہ راست رعایت دی جاسکتی ہے بینظرانکم سپورٹ پروگرام اس کی ایک مثال ہے جو ابھی بھی جاری ہے ۔

Image
گندم کے علاوہ مختلف زرعی اجناس اگانے سے غذائی نتائج بہتر بنایا جا سکتاہے۔تصویر: Flore de Preneuf/عالمی بینک

نکاسی آب  میں سرمایہ کاری کرنے ، زراعت میں  تنوع پیدا کرنے اورآٹے کی قیمت مستحکم کرنے جیسی سفارشات میں گندم پر رعایتدینے کی اصلاحات کو ایک ایسے اقدام کے طور پر ظاہر کیاگیا ہے جو پنجاب میں غذائیت بہتر بنانے میں مدد کرسکتاہے ۔ گندم پر تمام طبقوں کو رعائت دینے کی بجائے غریبوں اور خوراک کے عدم تحفظ کی شکار آبادی کومقرہرعایت دی جاسکتی ہے۔" جنوبی ایشیا کے خوراک اور غذائیت کے تحفظ کے اقدام کی جانب سے حمایت کردہ پالیسی 2012 کے رہنمانوٹ کا مطالعہ کریں یہ پروگرام جنوبی ایشیا میں ناقص غذائیت کاتصفیہ کرنے کی تلاش وجستجوکرتاہے۔

SMARTپروگرام میں عالمی  بینکحکومت پنجاب کی مدد کررہا ہے تاکہ گندم کی پالیسیاں جدید بنیاد پر استوار کی جائیں جبکہ گندم کو غریب صارفین کی قوت خرید میں رکھا جائے ۔ حکومت پنجاب کے سیکریٹری خوراک ظفر نصر اللہ کہتے ہیں کہ تصور اور فوائد کے حوالے سے کوئی عدم اتفاق نہیں ہے۔

 واحد مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس امر کو مناسب ضمانت کس طرح دیں گے  کہ مناسب قیمت برقرار رکھیجائے گی۔

 


کیا خوراک کی مارکیٹنگ نجی کاروبار کو متاثر کرسکتی ہے؟

کسی دوسری جگہ کی طرح قیمتوں کا روزمرہ کاتعین مارکیٹ کے نظام کا اہم جزو ہے جس کا ثبوت لاہور کی قدیم اور بڑی تھوک مارکیٹ پھلوں اور سبزیوں کی بادامی باغ کی مارکیٹ ہے ۔ ایجنٹوں ، نیلام کاروں ، دکانداروں اور پرچون فروش کا ہجوم روزانہ کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے جمع ہوتاہے جیسے آن لائن بھی شائع کیاجاتاہے۔ مال بردار فروخت کار سے خریداروں تک پہنچاتے ہیں اور ٹرک کچی گلیوں اور ملحقہ سڑکوں پر تھیلے رکھتے ہیں۔

Image
بادامی باغ مارکیٹ اتنی پرہجوم ہوتی ہے کہ صبح 5 بجے سے آدھی رات تک کاروباری دھکم پیل رہتی ہے۔ تصویر: Flore de Preneuf/عالمی بینک

ہر روز 500ٹن خوراک راوی لنک روڈ کی مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں پہنچتی ہے ۔ مارکیٹ کمیٹی  کے سیکریٹری شہزاد چیمہ کہتے ہیں کہ یہ مارکیٹ 1969 میں قیام کی گئی جب شہر کی آباد ی بہت کم تھی اور روزمرہ کی پیداوار بہت کم تھی ۔ یہ مارکیٹ (منڈی) اب اتنی پرہجومہوچکی ہے کہ یہاں پھلوں او ر سبزیوں کی خرید وفروخت صبح 5 بجے سے نصف رات تک ہوتی ہے ۔

ہجوم کا یہ منظر مجموعی طور پر مارکیٹ پر اثراندازہوتاہے۔ مئی 2018 تک یہ مارکیٹنگ ایک قانون  کے تحت کی جاتی تھی جسے پنجاب کی زرعی پیداواری مارکیٹی کے آرڈنینس1978 کہاجاتاہے ،یہ قانون متبادل ہول سیل مارکیٹیں بنانے  پرسخت پابندی عائد کرتاہے، کسان مارکیٹ اورالیکٹرانک مارکیٹ بنانے سے منع کرتاہے  اور صارف کو نقصان پہنچا نے  والی مسابقت کی حوصلہ شکنی کرتاہے ۔ قوانین سپر مارکیٹس اور غذائی کارپوریٹس جو پیداوار براہ راست  کسان سے نہیں خرید تی ،نمو کو روکتے ہیں ۔ ایک نیا مارکیٹنگ قانون قابل عمل ہونے پر بادامی باغ منڈی جیسی مارکیٹس  بہتر بنانے، کسی دوسری جگہ لے جانے کے لیے سرمایہ کاری کرنا، زیادہ پرکشش ہوگا۔ قانون ختم کرنے سے نئے قسم کے کاروبار کو فروغ حاصل ہوگا۔ یہ کاروباری افراد کے لیے ایک انقلاب کی طرح ہوسکتاہے۔

دودھ اور گوشت (عوامی صحت پر برے اثرات  ڈالنے والے  غلط  طرز عمل کی حوصلہ شکنی کرنے اور شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ) کی مارکیٹنگ ، پانی کی فیس کی ادائیگی (قیمتی وسائل کے بہتر  انتظام وانصرام  کی حوصلہ افزائی  کرنے کے لیے ) اور زرعی کاروبار کی امداد میں مماثلث پیدا کرنے ( خوراک کی ہئیت میں ترقی بڑھانے کے لیے ) SMARTپروگرام کی جانب سے دیگر شعبہ جاتی اصلاحات پر غور کیاگیاہے ۔

Image
دیگر اصلاحات میں آبپاشی کے مقاصد کے لیے پانی کا انتظام کرنا بھی شامل ہے۔ تصویر: Flore de Preneuf/عالمی بینک

عالمی  بینک کے پراجیکٹ کی ٹاسک ٹیم کے سرابرہ ہانیزجینسن کہتے ہیں کہ یہ روایتی  فصلوں سے زیادہ اہمیت کی حامل زراعت، نجی شعبہ کی ترقی کی جانب ایک مثالی تبدیلی کی نمائندگی کرتاہے لیکن یہ بہتر عوامی نتائج حاصل کرنے کے لیے وسائل کی زیادہ بہتر تخصیص بھی ہے ۔ اس کا تعلق عوامی پالیسیوں اوراخراجات کاجائزہ لیا ہے تاکہ غربت کو کم کیاجائےاوراستحکام اورغذائیت کو زیادہ بہتر بنایا جائے ۔



Api